تعلیمی بجٹ بڑھاؤ

سالانہ بجٹ کی کیا اہمیت ہے؟

ہر سال مئی اور جون کے مہینوں میں ایوانوں ، اخبارات اور ٹی وی چینلز پر بجٹ کے حوالے سے بحث و مباحثے ہوتے ہیں۔ ہر پاکستانی مردوعورت کے لیے بجٹ سے متعلق آگاہی اس لیے اہم ہے کہ یہ وہ دستاویز ہے جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی ترجیحات کا اظہار کرتی ہیں۔ یہ وہ موقعہ ہے جب ریاست اپنے عوام کے پیسوں کو بلحاظ ِ ضرورت خرچ کرنےکے منصوبوں کا اعلان کرتی ہے۔ اس لحاظ سے بجٹ کسی بھی حکومت کے سیاسی عزائم اور عوامی مطالبات کے پیش ِ نظر ان کی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔

تعلیمی بجٹ کیا ہے؟

قومی تعلیمی بجٹ وہ رقم ہے جو مجموعی طور پر چاروں صوبوں اور وفاقی حکومت کی طرف سے تعلیم کے شعبے کے لیے مختص کیا جا تا ہے۔چونکہ 2010 ء میں ہونے والی اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم ایک صوبائی معاملہ ہے اس لیے تعلیمی بجٹ کا بیشترحصّہ صوبائی حکومتوں کی طرف سے آتا ہے۔ مگر چونکہ تعلیم کے حصول کوہر بچے کے لیے یقینی بنانا وفاق اور صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، بلکہ اعلٰی تعلیم بھی وفاق کے دائرہ کار میں آتا ہے، لہٰذا قومی تعلیمی بجٹ اُن پانچوں بجٹوں سے مجموعی طور پراخذ ہونے والی وہ رقم ہے جو تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے مقرر کی جاتی ہے۔ ہر سال بجٹ تقاریر کے ذریعے اہم معاشی اعلانات کیے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے مئی کے آخر میں یا جُون کے شروع میں وفاقی وزیر ِ خزانہ وفاقی بجٹ پیش کرتے ہیں، پھر یکے بعد دیگرے چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ اپنے اپنے صوبائی بجٹ پیش کرتے ہیں۔ پانچوں بجٹ کے پیش ہونے کے بعدہمیں تعلیم کے لیے مقررشدہ کُل رقم کا پتہ چل سکتا ہے۔

تعلیمی بجٹ میں کن کن چیزوں پر اخراجات کے لیے پیسے مختص کئے جاتے ہیں؟

تعلیمی بجٹ کا مقصد تعلیمی اخراجات پورا کرنا ہوتا ہے ۔ دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کے بجٹ کے بھی مندرجہ ذیل حصے ہوتے ہیں۔

  1. کرنٹ بجٹ (جاریہ بجٹ)
    تعلیم کے کرنٹ بجٹ میں تعلیم پر اُٹھنے والےمسلسل اخراجات شامل ہیں ۔
  2. ڈیویلپمنٹ بجٹ (ترقیاتی بجٹ)
    ڈیویلپمنٹ بجٹ میں نئی شروع ہونے والی اسکیموں اور پراجیکٹس کے اخراجات شامل کئے جاتے ہیں۔

تعلیم کے شعبے میں کرنٹ بجٹ میں سب سے بڑی رقم اساتذہ کی تنخواہوں اور پنشن کیلئے مختص ہوتی ہے۔ جبکہ نئی عمارتیں ، سائنس لیبارٹریاں اور کمپیوٹرجیسے آلات پر آنے والے اخراجات ڈیویلپمنٹ بجٹ کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر ہم پچھلے4 سال کے اعدادوشمار کی اوسط دیکھیں تو مجموعی تعلیمی بجٹ کا 82 فیصد کرنٹ بجٹ جبکہ 18فیصد حصّہ ڈیویلپمنٹ بجٹ پر مشتمل رہاہے۔

پاکستان کی تعلیمی ضروریات کیا ہیں ؟ اور کیا موجودہ تعلیمی بجٹ ان ضروریات کو پورا کرتاہے ؟

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25۔اے پانچ سے سولہ سال کے بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری ریاست پر عائد کرتا ہے۔ اس وقت مردم شماری کی غیر موجودگی میں بہترین حکومتی اندازوں کے مطابق پانچ سے سولہ سال کے بچوں کی تعداد53.6 ملین یا 5 کڑور 36 لاکھ ہے۔ حکومتی اندازوں کے مطابق ان53.6 ملین بچوں میں سے 22.6 ملین بچے اسکول جانے سے محروم ہیں اور بقیہ بچوں میں سے بہت کم بچوں کو معیاری تعلیم مل رہی ہے۔اتنے زیادہ اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کی وجہ سےپاکستان میں مڈل اور سکینڈری اسکولوں کا تناسب پرائمری اسکولوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ گویا کہ یہ بہت واضح ہے کہ پاکستان کے بچوں کی تعلیمی ضروریات نہ شماری طور پر اور نہ ہی معیاری طور پر پوری ہو رہی ہیں۔ اس اہم قومی مسئلے سے تمام سیاسی جماعتیں اچھی طرح آگاہ ہیں اور اس وجہ سے ہر سیاسی جماعت نے اپنے منشور میں مندرجہ ذیل وعدے کئے تھے

مزید وسائل کی ضرورت کیوں ہے؟

اگر 18-2017 میں یہ وعدہ پورا کرنا ہے تو ہمیں کم از کم 402ارب روپے مزید تعلیم کے لیے مختص کرنے ہوں گے۔ ہمیں یہ اضافی رقم اس لیے چاہیئے

  1. کیونکہ اسکولوں کی عمارتیں تباہ شدہ اور نہایت خطرناک حا لت میں ہیں جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے
    بنیادی سہولیات کی غیر موجودگی
    151,999 اسکولوں کی کُل تعداد
    11,262 عمارت کے بغیر سکولوں کی تعداد
    60,158 بجلی کی سہولت کے بغیر سکولوں کی تعداد
    43,063 پینے کے صاف پانی کی سہولت کے بغیر سکولوں کی تعداد
    41,289 واش روم کے بغیر سکولوں کی تعداد
    36,907 چار دیواری کے بغیر سکولوں کی تعداد
  2. کیونکہ موجودہ کلاس رومزمیں 2کروڑ 26لاکھ بچوں کی لیے جگہ نہیں، پاکستان کے ان بچوں کی تعلیم کے لیے ہمیں کم از کم 5 لاکھ 65 ہزار مزید کلاس رومز کی ضرورت ہے
    اسکول سے باہر تمام بچوں کی تعلیم کے لیے مزید درکار کلاس رومز
    22,637,942 سکول سے باہر بچوں کی کُل تعداد
    40 ایک کلاس رُوم میں طلباء کی تعداد
    565949 درکار کلاس رُومز کی کُل تعداد
    933,815,107,500 کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے 1,650,000 روپے فی کلاس رُوم کے حساب سےدرکار کلاس رُومز کی کُل لاگت
  3. کیونکہ 2کروڑ 26لاکھ بچے اس وقت تعلیم سے محروم ہیں او رہمیں کم از کم 5 لاکھ 65 ہزار نئے قابل اساتذہ درکار ہیں
    اسکول سے باہر تمام بچوں کی تعلیم کی لیے کم از کم ماہانہ تنخواہ پر بھی درکار اساتذہ کی تعداد اور لاگت
    22,637,942 سکول سے باہر بچوں کی کُل تعداد
    ایک استاد 40 طلباء کے لیے طلباء اور اساتذہ کا قابلِ قبول تناسب
    565948.55 مزید درکار اساتذہ
    101,870,739,000 ان اساتذہ کی تنخواہوں کا سالانہ لاگت (15000 روپے ماہانہ کے حساب سے)
  4. پرائمری اور اس سے بالا درجہ (مڈل اور ہائی) اسکولوں کی تعداد میں بہت تضاد ہے
    سکول سے باہر بچوں کی تعداد
    پاکستان میں 2 کروڑ 26 لاکھ بچے آج بھی سکول نہیں جاتے
    ان میں سے تقریبا 50 لاکھ بچے پرائمری سکولوں سے باہر ہیں، اور تقریبا 1 کروڑ 70 لاکھ بچے مڈل اور ہائی سکول سے باہر ہیں
    اسکولوں کی تعداد - پرائمری، مڈل اور ہائی سکولوں میں واضح فرق
    30,582 پرائمری اسکولوں کی تعداد
    121,674 مڈل اور ہائی اسکولوں کی تعداد
  5. کہا جاتا ہے کہ سرکاری اسکولوں سے زیادہ مؤثر طریقے بھی ہے
    تعلیم سے محروم تمام بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے درکار رقم (پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے نیو اسکول پروجیکٹ کے تخمینوں کے مطابق)
    5,025,968 پرائمری سکول سے باہر بچوں کی کُل تعداد
    550 فی بچہ ماہانہ تعلیمی لاگت (PEF کے مطابق)
    2,764,282,400 تمام بچوں کی ماہانہ تعلیمی لاگت
    24878541600 تمام بچوں کی سالانہ تعلیمی لاگت
    6,400,844 مڈل سکول سے باہر بچوں کی کُل تعداد
    600 فی بچہ ماہانہ تعلیمی لاگت (PEF کے مطابق)
    3,840,506,400 تمام بچوں کی ماہانہ تعلیمی لاگت
    34564557600 تمام بچوں کی سالانہ تعلیمی لاگت
    11,211,180 سیکنڈری سکول سے باہر بچوں کی کُل تعداد
    900 فی بچہ ماہانہ تعلیمی لاگت (PEF کے مطابق)
    10,090,062,000 تمام بچوں کی ماہانہ تعلیمی لاگت
    90810558000 تمام بچوں کی سالانہ تعلیمی لاگت
    16,694,850,800 کل ماہانہ لاگت
    150,253,657,200 کل سالانہ لاگت

وعدے پورے کئے جائیں: تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جائے

تعلیمی بجٹ کوخرچ کرنے کے طریقےمیں بہتری لائی جائے

اس سارے عمل میں پاکستان کے بچوں کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے خلوصِ نیت سے کام کیا جائے۔